Sunday, 7 January 2024

جو غاصب اور قابض ہے اسے برباد ہونا ہے

 کشمیر کا نوحہ


پچھتر لاکھ کے بدلے

جسے افرنگ نے اک ڈوگرہ راجہ کو بیچا تھا

بہتّر سال پہلے پھر

مہاراجہ ہری سنگھ نے

اسی کشمیر کا جب غاصبوں سے طے کیا سودا

تو اس کی وادیوں، دروں، پہاڑوں، آبشاروں کا

بدن آزاد ہوتا تھا

ہوا جب گُنگناتی تھی

نہ کوئی جبر ہوتا تھا

نہ استبداد ہوتا تھا

یہاں پر سب رُتوں کا بانکپن آزاد ہوتا تھا

یہاں جو لوگ زندہ تھے، حقیقت میں وہ زندہ تھے

کوئی مر جائے تو اس کا 

کفن آزاد ہو تا تھا

پچھتّر لاکھ کے بدلے

جسے افرنگ نے اک ڈوگرہ راجہ کو بیچا تھا

بہتر سال پہلے پھر

مہاراجہ ہری سنگھ نے

اسی کشمیر کا جب غاصبوں سے طے کیا سودا

گل و لالہ سے اس کی صبحیں اور شامیں مہکتی تھیں 

چناروں کی بلندی پرحسیں چڑیاں چہکتی تھیں 

یہاں پر نیلوفر کے پھول ہر پل مُسکراتے تھے

یہاں پر زعفرانی کھیت سو جادُو جگاتے تھے

یہاں پر سونے جیسی روشنی سُورج لُٹاتا تھا

یہاں پر چاند تارے نُور کی چادر بچھاتے تھے

یہاں کے باسیوں پر اہلِ جنت رشک کرتے تھے

یہاں کے رنگ تصویرِ جہاں میں رنگ بھرتے تھے

یہاں پر آسماں سے نُور کے پیکر اُترتے تھے

یہاں پر پا بجولاں ان دنوں موسم نہ ہوتے تھے

پرندے بھی گلے سے جھیل کے لگ کر نہ روتے تھے

فضائیں اُن دنوں واقف نہ تھیں بارُود کی بُو سے 

یہاں کے رہنے والے بے خبر تھے جنگ کی خُو سے

پچھتّر لاکھ کے بدلے

جسے افرنگ نے اک ڈوگرہ راجہ کو بیچا تھا

بہتّر سال پہلے پھر

مہاراجہ ہری سنگھ نے

اُسی کشمیر کا جب غاصبوں سے طے کیا سودا

تو نیلم اور جہلم کی 

کوئی بھی لہر قیدی تھی، نہ پانی سُرخ ہوتا تھا

اور اس وادی کا ہر باسی خُوشی کی فصل بوتا تھا

یہاں کے لالہ زاروں سے شفا پاتے تھے سب روگی

یہاں کی چاندنی راتوں کے عاشق تھے سبھی جوگی 

پہاڑوں پر ہزاروں سال سے رہتے ہوئے چشمے

یہاں پر ان دنوں بے خوف تھے بہتے ہوئے چشمے

کوئی روئے زمیں پر اِن کا ہمسر تھا نہ ثانی تھا

کہ ان چشموں کا فردوسِ بریں سا پاک پانی تھا

یہاں سب صوفی بلبل شاہ کے تھے ماننے والے

یہاں تھے کلمہ گو آلِ نبیؐ پہچاننے والے

بفیضِ شاہ ہمدانی

یہاں کے ساکناں توحید کو تھے جاننے والے

کہ جن کو بُت پرستوں اور مُشرک سامراجوں نے 

غلامی میں جکڑنے کے لیے ایسے ستم ڈھائے

کہ جن پر نازیوں کا آج ہالو کاسٹ شرمائے 

مگر یہ بات اب طے ہے

بدل دے چاہے سارا آئین و قانون یہ غاصب

لگا کر کرفیو ویران کر دے ساری وادی کو 

جلا دے زعفراں زاروں کو چاہے لالہ زاروں کو

لہو کشمیریوں کا چاہے سب دریاؤں میں بھر دے

چناروں، آبشاروں اور جھیلوں کو فنا کر دے

یا پھر بارُود سے سب سبزہ زاروں کو کھنڈر کر دے

یہ غاصب جیسی بھی چاہے قیامت اب بپا کر دے

مگر یہ بات اب طے ہے

علی گیلانی کے کشمیر نے آزاد ہونا ہے

ملک یٰسین کے کشمیر نے آزاد ہونا ہے

عمر فاروق کے کشمیر نے آزاد ہونا ہے

اور اسماعیل کے کشمیر نے آزاد ہونا ہے

مِرے اور آپ کے کشمیر نے آزاد ہونا ہے

ہمیشہ کے لیے اب ختم استبداد ہونا ہے

جو غاصب اور قابض ہے

اسے برباد ہونا ہے 

اسے برباد ہونا ہے


جبار واصف

No comments:

Post a Comment