فلسطینی بچوں کے نام
اک بات ہمیشہ یاد رہے
ہم جہاں جہاں بھی رہتے ہیں
ہم جہاں جہاں بھی جا کے رہے
ہم جہاں جہاں بھی جاٸیں گے
اک طبقہ ایک کلاس ہماری قاتل ہے
مذہب کی کہانی جُھوٹی ہے
جنگوں کے ترانے جُھوٹے ہیں
دہشت گردی سے امن تلک
سارے ہی فسانے جُھوٹے ہیں
اک بات ہمیشہ یاد رہے
ہم غزہ سے کشمیر تلک
اور سُولی سے زنجیر تلک
ہم سب پیسے کے نیزے کی انّی پر ہیں
اک طبقہ پیسے کی خاطر پیچھے بیٹھا
سارے کا سارا قاتل ہے
قاتل ہے ہمارا قاتل ہے
یہ اِچھا دھاری قاتل ہے
اور باری باری قاتل ہے
اک بات ہمیشہ یاد رہے
اس مذہب، ملک، مسیحائی میں مت آنا
یہ دھوکہ ہے
یہ یو این او، اور انسانی تنظیمیں بھی
سب دھوکہ ہے
ان میں بیٹھا
ایک ایک مداری قاتل ہے
ایک ایک شکاری قاتل ہے
اک بات ہمیشہ یاد رہے
سرمایہ داری قاتل
اک بات ہمیشہ یاد رہے
سرمایہ داری قاتل
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment