عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جاتے ہو کہاں دوش پہ زلفوں کو سنبھالے
مقتول کی مظلوم کی آغوش کے پالے
نازک ہیں بہت پاؤں میں پڑ جائیں گے چھالے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
یہ قصۂ غم سیِّدِ والا سے کہو گے
لُوٹا ہے مسلمانوں نے، دادا سے کہو گے
اسلام کہیں شرم سے گردن نہ جھکا لے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
گھبرا کے اس آفت سے کہیں دور نہ جانا
اولادِؑ پیمبرﷺ کا مخالف ہے زمانا
رستوں کو ہیں روکے ہوئے کوفے کے رسالے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
مقتل میں ذرا گورِ غریباں تو بنا دو
لاشے تو شہیدوں کے تہِ خاک چھپا دو
کُشتے یہ غریبوں کے کیے کس کے حوالے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
گزری ہے جو غربت میں وہ دنیا کو سنادو
کوفے کو چلو، شام کی بنیاد ہلادو
قاتل نہ زمانے سے کوئی ظلم چھپا لے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
تاریخ میں رہ جائے گی یہ چاند سی صورت
اس عہد سے چمکو گے یونہی تا بہ قیامت
باطل کے اندھیرے میں حقیقت کے اُجالے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
نجم آفندی
No comments:
Post a Comment