عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آمدِ نُورِ مجسّم کا اثر لگتا ہے
نُور میں ڈوبا ہوا سارا نگر لگتا ہے
یا علیؑ شیر خدا آپ کے دیوانوں کو
آپ کے شہر کا ہر ذرہ قمر لگتا ہے
رحمت و نور کی برسات ہوا کرتی ہے
کتنا دلکش مجھے یہ وقت سحر لگتا ہے
جس کے گھر میں نہیں ہوتا ہے کبھی ذکر علیؑ
گھر نہیں مجھ کو وہ ویران نگر لگتا ہے
سُن کے خُوش ہوتا ہے تو ذکرعلیؑ شیر خدا
تُو کسی نیک شجر کا ہی ثمر لگتا ہے
مدحِ شبیرؑ نہیں اتنی بھی آساں ناداں
اس عمل کے لیے تو خون جگر لگتا ہے
دیکھ کرجرأت عباسؑ، لعینوں نے کہا
تیغ عباسؑ میں حیدرؑ کا ہُنر لگتا ہے
رن میں کہتا تھایہ ہرایک یزیدی فوجی
مجھ کو عباسؑ علمدار سے ڈر لگتا ہے
دفعتا بگڑے ہوئے کام سبھی بننے لگے
یہ مِری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے
راہ پُر خار سے دیوانے گُزر جاتے ہیں
مُفت کے مفتی کو پیچیدہ سفر لگتا ہے
حضرتِ حُر نے یہ پیغام دیا ہے جاوید
نیک ہو ماں تو بہت پیارا پسر لگتا ہے
محمد جاوید وارثی
No comments:
Post a Comment