Wednesday, 10 January 2024

کرتا ہوں احترام علی کا بتول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کرتا ہوں احترام علیؑ کا بتولؑ کا

بھائی میں ہوں غلام، علی کا بتول کا

ہونٹوں پہ ہے سلام علی کا بتول کا

اور دل میں ہے قیام علی کا بتول کا

آلِ عباؑ ہے آل علیؑ کی بتولؑ کی

اونچا ہے کیا مقام علی کا بتول کا

رزقِ سخن کے ساتھ ہی رزقِ بدن ملے

نوکر ہے شاد کام علی کا بتول کا

پورا ہوا درود تو پوری ہوئی نماز

مقبول ہے سلام علی کا بتول کا

چلتا ہے بارگاہِ نبوت میں جن کا نام

صدقہ رہے مدام علی کا بتول کا

کیسے نہ چاکری کریں حرف و سخن مِری

نوکر ہوں میں امامِ علی کا بتول کا

محشر میں لے کے آ گئے سب لوگ نیکیاں

میں لے کے آیا نام علی کا بتول کا


نادر صدیقی

No comments:

Post a Comment