Sunday, 7 January 2024

یثرب کی نینوا کے ستم پر نظر نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یثرب کی نینوا کے ستم پر نظر نہیں

گھر کس کا لُٹ رہا ہے کسی کو خبر نہیں

آئی اگر تو ایسی قیامت نہ آئے گی

عشرے کی صُبح صُبحِ قیامت اگر نہیں

پیشِ نظر حسینؑ کے ہیں دو جہاں مگر

اللہ پر نظر ہے،۔ کسی پر نظر نہیں

انصار ہیں حسینؑ کے دونوں سے بے نیاز

جینے کی آرزو نہیں، مرنے کا ڈر نہیں

سوتے ہیں جلوہ گاہِ مؤدّت میں سرفروش

دل اُن کے پہلوؤں میں ہیں، شانوں پہ سر نہیں

یوں آگ دے رہے ہیں مسلماں خیام میں

جیسے یہ گھر نبیؐ کے نواسے کا گھر نہیں

ماتم کل اس کا سارے زمانے میں دیکھنا

لاشے پہ جس کے آج کوئی نوحہ گر نہیں

اشکِ عزا کی تہ میں ہے طُوفاں چُھپا ہوا

دُنیا میں نجم! چشمِ حقیقت مگر نہیں 


نجم آفندی

No comments:

Post a Comment