عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کعبۂ دل قبلۂ جان طاق ابروئے علیؑ
ہو بہو قرآن ناطق مصحف روئے علی
خاک کے ذروں میں عطر بوترابی کی مہک
باغ کے ہر پھول سے آتی ہے خوشبوئے علی
اے صبا کیا یاد فرمایا ہے مولا نے مجھے
آج میرا دل کھنچا جاتا ہے کیوں سُوئے علی
دامنِ فردوس ہے ہر گوشۂ شہر نجف
ہے مقیم خلد گویا ساکن کوئے علی
کیوں نہ ہوں کونین کی آزادیاں اس پر نثار
ہے دل بیدم اسیر دام گیسوئے علی
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment