Sunday, 7 January 2024

کعبہ دل قبلہ جان طاق ابروئے علی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کعبۂ دل قبلۂ جان طاق ابروئے علیؑ

‎ہو بہو قرآن ناطق مصحف روئے علی

‎خاک کے ذروں میں عطر بوترابی کی مہک

‎باغ کے ہر پھول سے آتی ہے خوشبوئے علی

‎اے صبا کیا یاد فرمایا ہے مولا نے مجھے

‎آج میرا دل کھنچا جاتا ہے کیوں سُوئے علی

‎دامنِ فردوس ہے ہر گوشۂ شہر نجف

‎ہے مقیم خلد گویا ساکن کوئے علی

‎کیوں نہ ہوں کونین کی آزادیاں اس پر نثار

‎ہے دل بیدم اسیر دام گیسوئے علی


بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment