Saturday, 6 January 2024

اکیلے تم نہیں جس کی دھلائی ہوتی رہتی ہے

 زعفرانی غزل


اکیلے تم نہیں جس کی دُھلائی ہوتی رہتی ہے

سبھی کی اپنی بیگم سے لڑائی ہوتی رہتی ہے

کرپشن جُرم ہے میرا، یقیناً چُھوٹ جاؤں گا

ہمارے ملک میں یہ کاروائی ہوتی رہتی ہے

وہ عمرہ ہو کہ حج، سرکار کے خرچے پہ کرتے ہیں

کہ یوں دونوں جہانوں کی کمائی ہوتی رہتی ہے

کبھی مہنگائی کی زد میں کبھی بیگم کے نرغے میں

مُسلسل اپنی جیبوں کی صفائی ہوتی رہتی ہے

سڑک کے نیچے کیا جانے خزانے کیا ہیں پوشیدہ

بھرائی ہوتی رہتی ہے، کُھدائی ہوتی رہتی ہے

کہاں اک سیلری میں کار، کوٹھی، بیویاں دو دو

خُدا کا شکر، اُوپر کی کمائی ہوتی رہتی ہے

میں ہر بچے کی پیدائش پہ منہ میٹھا کراتا ہوں

سو ہر دسویں مہینے میں مٹھائی ہوتی رہتی ہے


امجد علی راجا

No comments:

Post a Comment