Saturday, 6 January 2024

ہوا پہلی بار میں حیران بھی تھانے آ کر

 طنزیہ نمکین زعفرانی کلام


ہُوا پہلی بار میں حیران بھی تھانے آ کر

مِلی گُونگے کو زبان بھی تھانے آ کر

ایسی خدمت کرتے ہیں یہ تھانے والے

بندہ بُھول جاتا ہے پہچان بھی تھانے آ کر

مُک مُکا کر لو یہیں، اچھا ہے؛ ورنہ

ہونا پڑے گا تمہیں پریشان بھی تھانے آ کر

کاش! اجازت پولیس کو مِل جائے

ہو جائیں سیدھے یہ حکمران بھی تھانے آ کر

گر اقبالِ جُرم نہ کرے، پھیر دو ٭بارہ نمبر

سُننے کو مِلتا ہے فرمان بھی تھانے آ کر

اپنی تشریف کو سہلانا پڑے برسوں تک

ایسے پڑتے ہیں نشان بھی تھانے آ کر

یہ حقیقت ہے کہ شیطان تو انسان نہیں

شیطان بن جاتا ہے انسان بھی تھانے آ کر

نام تھانے کا سُنے بے قُصور بھی ڈر جائے

خطا ہو جاتے ہیں اوسان بھی تھانے آ کر

چِھتر🩰 مِلتے ہیں یہاں کھانے کو

بن کے دیکھو کبھی مہمان بھی تھانے آ کر


جعفر بشیر

٭12

No comments:

Post a Comment