Thursday, 31 October 2024

نہ آئی جس کی سحر ایک رات ایسی بھی

نہ آئی جس کی سحر ایک رات ایسی بھی

گُزار آئے مگر ایک رات ایسی بھی

ادھر گُزرتی ہیں جیسے عذاب میں راتیں

گُزرتی کاش ادھر ایک رات ایسی بھی

بُجھا سکوں میں دیوں کو خوشی خوشی جس میں

تُو میری نذر تو کر ایک رات ایسی بھی

جُدا ہے دشت کی شب تیرے شہر کی شب سے

لے چل سمیٹ کے گھر ایک رات ایسی بھی

میں جانتا ہوں نہ نکلے گا رات میں سُورج

میں چاہتا ہوں مگر ایک رات ایسی بھی

وہ جس میں آنکھ ہی خوابوں سے رشک کرتی تھی

ضیا نے کی ہے بسر ایک رات ایسی بھی


سبھاش پاٹھک ضیا 

No comments:

Post a Comment