Friday, 8 November 2024

آہوں کے کوئی ڈھب ہیں نہ رونے کے قرینے

آہوں کے کوئی ڈھب ہیں نہ رونے کے قرِینے

فُرقت کو بڑھایا ہے مِری کم ہُنری نے

مقصُود پہ ہیں پیشِ رقیبانِ پریدہ

کیا اُڑنا سِکھایا ہمیں بے بال و پری نے

طائر وہیں بستے ہیں جہاں سنگ نہ آئیں

آباد رکھا مجھ کو مِری بے ثمری نے

ہوں بھی کہ نہیں ہوں اور اگر ہوں بھی تو کیا ہوں

تشویش میں رکھا ہے تِری خود نگری نے

محفل میں گھٹن ہوتی ہے تنہائی میں وحشت

رکھا نہ کہیں کا مجھے خستہ جگری نے


محمد منذر رضا

No comments:

Post a Comment