ادا شناس تو تھے جانِ جاں، بس آئے ہیں
تِری گلی سے فقط جسم واپس آئے ہیں
کس آئینے میں جہاں دِیدگاں کی دِیدن ہو
کثیر پیشِ نظر بیش تر پس آئے ہیں
ذرا سی رنجشِ بیجا کا کیا ہُوا مذکور
مخالفین بہ اندازِ کرگس آئے ہیں
دوانگی پہ تاثر ہے میری سعی میں
ہوا کے دوش پہ باہم دِگر خس آئے ہیں
بہت ہی سخت تھا پہلا قدم مگر کاہل
پھر آگے راہ میں کمخواب و اطلس آئے ہیں
خوشا عواطفِ قلبی کی پردہ پوشی ہے ژرف
دیارِ غیر سے بالا مجرّس آئے ہیں
بدر م ژرف
بدر منیر ژرف
No comments:
Post a Comment