کہنے کو زمانے کی فضا کاٹ رہی ہے
تلوار سی خود اپنی انا کاٹ رہی ہے
کیوں خود سے پریشاں ہے بتا زندگی مجھ کو
کیا میری طرح تُو بھی سزا کاٹ رہی ہے
میں کیسے حفاظت کروں دستار کی اپنی
اب جسم کو میری ہی رِدا کاٹ رہی ہے
منزل ہے نگاہوں میں مگر سوچ کے چپ ہوں
قدموں کے مِرے فکرِ رسا کاٹ رہی ہے
دریا کے کنارے کی زمیں کس لیے دیکھوں
مجھ کو تو یہاں موجِ بلا کاٹ رہی ہے
کس طرح شکایت کرے موسم سے شجر بھی
اندر سے اسے شاخِ انا کاٹ رہی ہے
مجرم جو نظر آتا ہوں خود اپنی نظر میں
شاید کہ اثر میری انا کاٹ رہی ہے
ایم کے اثر
محمد خدادین
No comments:
Post a Comment