Saturday, 15 November 2014

نامہ بر کی جگہ ہم دل کو روانہ کریں گے

نامہ بر کی جگہ ہم دل کو روانہ کریں گے
بات نکلی ہے تو اب اس کو فسانہ کریں گے
دل ہتھیلی پر لیے بیٹھے ہیں سارے عشاق
کس کو معلوم وہ کس دل کو نشانہ کریں گے
کیسی تہذیب سے پلکوں میں جَڑے ہیں آنسو
آپ آئیں گے تو کچھ اپنا ٹھکانہ کریں گے
اس نے ہر بار نہ ملنے کا بہانہ کیا ہے
ہم بھی اس بار نہ ملنے کا بہانہ کریں گے
اور چمکے گا لباسِ غمِ جاناں، خاورؔ
وقت کے ساتھ اسے جتنا پرانا کریں گے

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment