یوں سرِ شام تِری یاد میں آنسُو نکل آئے
جس طرح وادئ پُرخار میں آہُو نکل آئے
ہاتھ میں ہاتھ لیے تِرے خد و خال کے ساتھ
جانے کب آئینۂ جاں سے لبِ جُو نکل آئے
دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہے تنہائی کا چاند
اور اچانک کسی جانب سے اگر تُو نکل آئے
برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ
یہ تیرے ہجر کے دُکھ جو سرِ مُو نکل آئے
وہ جو بے شاخ شجر تھے تِرے رستے کا غبار
تو نظر آیا تو ہر ایک کے بازُو نکل آئے
تُو نہیں تھا تو یہ دل اپنی جگہ تھا کسی طور
تُو ملا ہے تو کئی ضبط کے پہلُو نکل آئے
خاورؔ اس شخص کی اک اور صفت بھی ہے عجیب
جس کو چُھو جائے اس سنگ سے خوشبُو نکل آئے
جس طرح وادئ پُرخار میں آہُو نکل آئے
ہاتھ میں ہاتھ لیے تِرے خد و خال کے ساتھ
جانے کب آئینۂ جاں سے لبِ جُو نکل آئے
دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہے تنہائی کا چاند
اور اچانک کسی جانب سے اگر تُو نکل آئے
برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ
یہ تیرے ہجر کے دُکھ جو سرِ مُو نکل آئے
وہ جو بے شاخ شجر تھے تِرے رستے کا غبار
تو نظر آیا تو ہر ایک کے بازُو نکل آئے
تُو نہیں تھا تو یہ دل اپنی جگہ تھا کسی طور
تُو ملا ہے تو کئی ضبط کے پہلُو نکل آئے
خاورؔ اس شخص کی اک اور صفت بھی ہے عجیب
جس کو چُھو جائے اس سنگ سے خوشبُو نکل آئے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment