آخر اس عشق کا آزار کم تو ہونا تھا
شام تک سایۂ دیوار کم تو ہونا تھا
دوستو غم نہ کرو میرا کہ جس مقتل سے
تم گزر آئے ہو اک یار کم تو ہونا تھا
سرکشیدوں کا کوئی تذکرہ ہو گا ورنہ
محفلِ غیر نہ ہوتی تو روش سے تیزی
دل بھی دُکھتا مگر آزار کم تو ہونا تھا
ہم نے کب چاہا کہ آئینۂ دل ہو صیقل
پر تِری دید سے زنگار کم تو ہونا تھا
دل کی سازش تھی کہ بے دید ہوئی ہیں آنکھیں
اک نہ اک میرا طرف دار کم تو ہونا تھا
احمد فراز
No comments:
Post a Comment