Thursday, 6 November 2014

چھیڑ دیتا ہے دل پھر سے پرانی کوئی بات

چھیڑ دیتا ہے دل پھر سے پرانی کوئی بات
کوئی دکھ کوئی گلہ کوئی کہانی کوئی بات
ایک چپ تھی کہ جو خوشبو کی طرح پھیلی تھی
صبحدم کہہ نہ سکی رات کی رانی کوئی بات
اہلِ گلشن کا تو شیوہ ہے کہ بدنام کریں
گُل بھی سنتا کبھی بلبل کی زبانی کوئی بات
وہ ترا عہدِ وفا تھا، کہ وفائے وعدہ
میں کہ پھر بھول گیا یاد دلانی کوئی بات
جانے کیوں اب کے پریشاں ہیں تِرے خانہ بدوش
ورنہ ایسی بھی نہ تھی نقلِ مکانی کوئی بات
جس طرح ساری غزل میں کوئی عمدہ مصرع
جس طرح یاد میں رہ جائے نشانی کوئی بات
اہلِ دستار و قبا ترش جبیں کیوں ہیں فرازؔ
کہہ گئی کیا مِری آشفتہ بیانی کوئی بات

احمد فراز

No comments:

Post a Comment