جب سجے محفلِ مے شام میں آ جائے کوئی
پینے بیٹھیں تو نظر جام میں آ جائے کوئی
یہ مقدر کے کرشمے ہیں کہ اکثر اوقات
ہو نگاہوں میں کوئی، دام میں آ جائے کوئی
مجھ سے ملنے نہیں دیتے مجھے دنیا والے
اس کا دھیان آئے تو گھر ایسے مہک جاتا ہے
جیسے دیوار و در و بام میں آ جائے کوئی
ہم تو اس کو سر آنکھوں پہ بٹھا لیتے ہیں
سوئے میخانہ جو احرام میں آ جائے کوئی
گرچہ امکاں تو بہت کم ہے مگر کیا معلوم
پھر کسی روز کسی شام میں آ جائے کوئی
جانے کب سے ہوں کسی خواب جزیرے میں فرازؔ
کاش اِس قریۂ گمنام میں آ جائے کوئی
احمد فراز
No comments:
Post a Comment