تعلق اس کا اپنا درمیانہ چل رہا ہے
کہ آنے میں نہ آنے کا بہانہ چل رہا ہے
طوالت کھنچ رہی ہے آمد و رفتِ نفس کی
قیامِ مختصر کا آب و دانہ چل رہا ہے
ہوا اب تک نہیں ظاہر ابھی پردہ نشیں سے
تعارف ہر کسی کا غائبانہ چل رہا ہے
بہت اغلاط سے اپنی میں پسپا ہو رہا ہوں
کئی اسباب سے آگے زمانہ چل رہا ہے
دروں کیا ہے مخالف کے نہیں معلوم کچھ بھی
بظاہر سب کا، سب سے دوستانہ چل رہا ہے
وہی ہے کام ہونے میں نہ ہونے کی رکاوٹ
کوئی لاحاصلی کا شاخسانہ چل رہا ہے
ابھی تحریر سے اپنی وہ ہے نامطمئن سا
مجھے کاتب کا لکھنا اور مٹانا چل رہا ہے
نہیں کھلتا جدا ہوتا ہے بعدِ شام کیوں کر
جو سایہ دھوپ میں شانہ بشانہ چل رہا ہے
عجوبہ نقش ہیں یا دھات ہے نایاب اس کی
نئے بازار میں سِکہ پرانا چل رہا ہے
کہ آنے میں نہ آنے کا بہانہ چل رہا ہے
طوالت کھنچ رہی ہے آمد و رفتِ نفس کی
قیامِ مختصر کا آب و دانہ چل رہا ہے
ہوا اب تک نہیں ظاہر ابھی پردہ نشیں سے
تعارف ہر کسی کا غائبانہ چل رہا ہے
بہت اغلاط سے اپنی میں پسپا ہو رہا ہوں
کئی اسباب سے آگے زمانہ چل رہا ہے
دروں کیا ہے مخالف کے نہیں معلوم کچھ بھی
بظاہر سب کا، سب سے دوستانہ چل رہا ہے
وہی ہے کام ہونے میں نہ ہونے کی رکاوٹ
کوئی لاحاصلی کا شاخسانہ چل رہا ہے
ابھی تحریر سے اپنی وہ ہے نامطمئن سا
مجھے کاتب کا لکھنا اور مٹانا چل رہا ہے
نہیں کھلتا جدا ہوتا ہے بعدِ شام کیوں کر
جو سایہ دھوپ میں شانہ بشانہ چل رہا ہے
عجوبہ نقش ہیں یا دھات ہے نایاب اس کی
نئے بازار میں سِکہ پرانا چل رہا ہے
اعجاز گل
No comments:
Post a Comment