Friday, 14 November 2014

یار کو دیدہ خونبار سے اوجھل کر کے

یار کو دیدۂ خونبار سے اوجھل کر کے
مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے
جانبِ شہر فقیروں کی طرح کوہِ گراں
پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے
دل وہ مجذوب مغنّی کہ جلا دیتا ہے
ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے
جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک
دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے
یعنی ترتیبِ کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے
اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ
اپنے دروازے کو باہر سے مقفّل کر کے ​
اسلم کولسری

No comments:

Post a Comment