ہوائیں چلنے کو ہیں پات جھڑنے والے ہیں
ذرا سی دیر میں ہم تم بچھڑنے والے ہیں
ہے گرد پڑنے کو ان آئینہ سی شکلوں پر
رُتوں کے قہر سے چہرے بگڑنے والے ہیں
سمٹنی والی ہیں کچھ دیر میں سجی میزیں
لگے ہوئے ہیں جو خیمے اکھڑنے والے ہیں
کھڑی ہیں سر پہ جدائی کی برفبار رُتیں
گلاب موسموں کے خواب اجڑنے والے ہیں
تِری جدائی کا مجرم بھی خود ہی بننا ہے
بچھڑ کے تجھ سے ہم اپنے سے لڑنے والے ہیں
جو رشتہ رشتہ تھے جوڑے اک ایک کر کے ریاض
بنے ہوئے وہ تعلق ادھڑنے والے ہیں
ذرا سی دیر میں ہم تم بچھڑنے والے ہیں
ہے گرد پڑنے کو ان آئینہ سی شکلوں پر
رُتوں کے قہر سے چہرے بگڑنے والے ہیں
سمٹنی والی ہیں کچھ دیر میں سجی میزیں
لگے ہوئے ہیں جو خیمے اکھڑنے والے ہیں
کھڑی ہیں سر پہ جدائی کی برفبار رُتیں
گلاب موسموں کے خواب اجڑنے والے ہیں
تِری جدائی کا مجرم بھی خود ہی بننا ہے
بچھڑ کے تجھ سے ہم اپنے سے لڑنے والے ہیں
جو رشتہ رشتہ تھے جوڑے اک ایک کر کے ریاض
بنے ہوئے وہ تعلق ادھڑنے والے ہیں
ریاض مجید
No comments:
Post a Comment