ساری طلِسم گاہِ نوا بھی چلی گئی
کیا قافلہ گیا کہ سَرا بھی چلی گئی
ٹھہرا نہیں کوئی نہ مسافر نہ موجِ شب
آوازِ پا کے ساتھ ہوا بھی چلی گئی
ہوتا ہے کارزار حریفوں کے درمیاں
تھا میرے ساتھ کون مگر قاتلوں کی سمت
حیرت یہ ہے کہ خلقِ خدا بھی چلی گئی
میں سوچتا تھا میرے ہم آواز ہیں یہ لوگ
اس شور میں تو میری صدا بھی چلی گئی
حاصل تھا ہم کو صرف بہکنے کا اختیار
پھر یوں ہوا کہ لغزشِ پا بھی چلی گئی
شہرِ زیاں کی آخری امید ہیں یہ ہاتھ
یہ تھک گئے تو رسمِ دعا بھی چلی گئی
عرفان صدیقی
No comments:
Post a Comment