اک ایسا قتل بھی مقتل کی داستان میں ہے
جو ممتحن ہے وہی شخص امتحان میں ہے
کہاں وہ لوگ کہ شِکنیں نہیں جبینوں پر
کہاں وہ لوگ کہ اک تیر ہر کمان میں ہے
ہماری پیاس کو جھٹلانے والے یاد رہے
ابھی تو ریت کی تاثیر بھی زبان میں ہے
زیادہ دور نہیں ہے فرات خیموں سے
مگر یزید کا احسان درمیان میں ہے
جہاں شہید ہوں پسماندگاں شہیدوں کے
یہ رسم صرف تمہارے ہی خاندان میں ہے
جو ممتحن ہے وہی شخص امتحان میں ہے
کہاں وہ لوگ کہ شِکنیں نہیں جبینوں پر
کہاں وہ لوگ کہ اک تیر ہر کمان میں ہے
ہماری پیاس کو جھٹلانے والے یاد رہے
ابھی تو ریت کی تاثیر بھی زبان میں ہے
زیادہ دور نہیں ہے فرات خیموں سے
مگر یزید کا احسان درمیان میں ہے
جہاں شہید ہوں پسماندگاں شہیدوں کے
یہ رسم صرف تمہارے ہی خاندان میں ہے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment