بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے
ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے
دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے
جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے
کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے
کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے
نشست کے تو طلبگار ہی نہیں ہم لوگ
ہمارے پاؤں سے کیوں پائدان کھینچتا ہے
چراغوں میں وہ چراغ اس لیے نمایاں ہے
ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے
بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحبِ تخت
جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے
یہ سارا جھگڑا تِرے انہماک کا ہی تو ہے
سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے
ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے
دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے
جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے
کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے
کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے
نشست کے تو طلبگار ہی نہیں ہم لوگ
ہمارے پاؤں سے کیوں پائدان کھینچتا ہے
چراغوں میں وہ چراغ اس لیے نمایاں ہے
ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے
بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحبِ تخت
جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے
یہ سارا جھگڑا تِرے انہماک کا ہی تو ہے
سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment