قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
بے گناہ کا خون ہے اپنا رنگ لائے گا
ایک دن ضرور یہ کوئی گُل کھلائے گا
بانیانِ ظلم کو خاک میں ملائے گا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
ناصر و ظہیر کا مولوی فقیر کا
حاکمِ شریر کا شیر علی وزیر کا
ایک ایک زخم کا ایک ایک تیر کا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
قوم کے عتاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
حشرِ احتساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
خونی انقلاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
راستوں کے پیچ و خم کوئی دن کی بات ہے
کھُل رہے گا یہ بھرم کوئی دن کی بات ہے
یہ جفائیں یہ ستم کوئی دن کی بات ہے
فیصلہ کریں گے ہم کوئی دن کی بات ہے
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment