Friday, 13 November 2015

نئی مسافتوں کا ذائقہ ہے تانوں میں

نئی مسافتوں کا ذائقہ ہے تانوں میں
نئے افق کا نشہ ہے مِری اڑانوں میں
میں ان سے آگے نشیمن کہیں بناؤں گا
رہا نہ کوئی تجسس اب آسمانوں میں
یہ رشتوں ناتوں کی زنجیر توڑ کر نکلو
 بنے بنائے سے زنداں ہیں یہ مکانوں میں
روایتوں کے جو ہم نے عذاب جھیلے ہیں
یہ باتیں اب نظر آئیں گی داستانوں میں
جو سربلندی کے جھوٹے سُروں پہ جھُومتے ہیں
وہ سر بہ سجدہ نظر آئے آستانوں میں
پِرو لے ان کو کوئی سلکِ آدمیت میں
کہ لوگ بٹتے چلے جا رہے ہیں خانوں میں
یہ سارا عصرِ نوی کا ہے معجزہ فارغؔ
جو اب ہے شعلۂ رفتار کاروانوں میں

فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment