نئی مسافتوں کا ذائقہ ہے تانوں میں
نئے افق کا نشہ ہے مِری اڑانوں میں
میں ان سے آگے نشیمن کہیں بناؤں گا
رہا نہ کوئی تجسس اب آسمانوں میں
یہ رشتوں ناتوں کی زنجیر توڑ کر نکلو
روایتوں کے جو ہم نے عذاب جھیلے ہیں
یہ باتیں اب نظر آئیں گی داستانوں میں
جو سربلندی کے جھوٹے سُروں پہ جھُومتے ہیں
وہ سر بہ سجدہ نظر آئے آستانوں میں
پِرو لے ان کو کوئی سلکِ آدمیت میں
کہ لوگ بٹتے چلے جا رہے ہیں خانوں میں
یہ سارا عصرِ نوی کا ہے معجزہ فارغؔ
جو اب ہے شعلۂ رفتار کاروانوں میں
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment