مِرے نصیب نے جب مجھ سے انتقام لیا
کہاں کہاں تِری یادوں نے تھام تھام لیا
فضا کی آنکھ بھر آئی، ہوا کا رنگ اڑا
سکوتِ شام نے چپکے سے تیرا نام لیا
وہ میں نہیں تھا، جو اک حرف بھی نہ کہہ پایا
ہر اک خوشی نے تِرے غم کی آبرو رکھ لی
ہر اک خوشی سے تِرے غم نے انتقام لیا
وہ معرکہ تھا کہ فتح و شکست نہ ملی
نہ جانے شاذؔ نے کس مصلحت سے کام لیا
شاذ تمکنت
No comments:
Post a Comment