وو نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گلرخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوخ تجھ نین میں دیکھا نگاہ کر کر
عاشق کے مارنے کا انداز ہے سراپا
جگ کے ادا شناساں ہے جن کی فکر عالی
تجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا
کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر تِرے برابر
تُو حسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا
گاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر
جاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا
مجھ پر ولیؔ ہمیشہ دلدار مہرباں ہے
ہر چند حسبِ ظاہر طناز ہے سراپا
خوبی میں گلرخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے شوخ تجھ نین میں دیکھا نگاہ کر کر
عاشق کے مارنے کا انداز ہے سراپا
جگ کے ادا شناساں ہے جن کی فکر عالی
تجھ قد کوں دیکھ بولے یو ناز ہے سراپا
کیوں ہو سکیں جگت کے دلبر تِرے برابر
تُو حسن ہور ادا میں اعجاز ہے سراپا
گاہے اے عیسوی دم یک بات لطف سوں کر
جاں بخش مجھ کو تیرا آواز ہے سراپا
مجھ پر ولیؔ ہمیشہ دلدار مہرباں ہے
ہر چند حسبِ ظاہر طناز ہے سراپا
ولی دکنی
No comments:
Post a Comment