Saturday, 12 December 2015

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے 
وہ اپنی خوبئ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے 
دلوں کو فکرِ دو عالم سے کر دیا آزاد
تِرے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
خِرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
تِرے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی
مجھے وہ شاملِ اربابِ امتیاز کرے
غمِ جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہش
وہ ان کے دردِ محبت سے سازباز کرے
امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ
تِری نگاہ کو اللہ دلنواز کرے
تِرے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment