Friday, 8 January 2016

اگرچہ سر پہ کئی سائباں بنائے گئے

اگرچہ سر پہ کئی سائباں بنائے گئے
یہی کھلا کہ وہ رائیگاں بنائے گئے
ہوائے تیز میں ٹِیلے فنا نہیں ہوتے
یہاں مِٹائے گئے تو وہاں بنائے گئے
فرازِ عرش پہ جانے کی وہ لگن تھی ہمیں
خلا کو چیر کے ہم سیڑھیاں بنائے گئے
عجیب دھن میں رہے ہم کہ مِٹ نہ پائیں کبھی
وہ نقش جو سرِ آبِ رواں بنائے گئے
ہمیں عزیز رہے اپنی جان سے بڑھ کر
وہ بام و در جو بڑے بے اماں بنائے گئے
کسی کے ہجر میں جل کر یہ دل دہک اٹھا
پھر اس شرر کو ہم آتش فشاں بنائے گئے
فقط ہمارا چلن تھا کہ دوسروں کے لیے
بھنور میں بیٹھ کے ہم کشتیاں بنائے گئے
بس ایک لمحہِ قربت تھا عمر بھر پہ محیط
اس ایک پھول سے ہم گلستاں بنائے گئے
عجیب اپنا المیہ رہا نسیمِ سحر
حقیقتوں میں رہے، داستاں بنائے گئے

نسیمِ سحر

No comments:

Post a Comment