بارہا ان سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں میں
اور پھر یہ بات قصداً بھول بھی جاتا ہوں میں
ڈوبتے دیکھے ہیں ان آنکھوں سے اتنے آفتاب
روشنی کے نام سے بھی اب لرز جاتا ہوں میں
اتنی افسردہ دلی اللہ دشمن کو نہ دے
بے رخی کو ان کی سچ مچ بے رخی سمجھا کیا
آج اپنی اس غلط فہمی پہ پچھتاتا ہوں میں ہوں میں
چاہتا یہ ہوں کہ دنیا مجھ کو تنہا چھوڑ دے
جانے کیوں اب غمگساری سے بھی گھبراتا ہوں میں
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment