Monday, 4 January 2016

جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں

جلوے مِری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
کرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعد
جو تھے دعا کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں
جس دن سے کچھ شریک ہوئی میری مشتِ خاک
اُس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں
کیسا جواب، حضرتِ دل! دیکھیے ذرا
پیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں
کیا اضطرابِ شوق نے مجھ کو خجل کیا
وہ پوچھتے ہیں کہیے ارادے کہاں کے ہیں
عاشق تیرے عدم کو گئے کس قدر تباہ
پوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں
ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے، مگر
دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment