Thursday, 6 October 2016

اپنا خاکہ لگتا ہوں ایک تماشا لگتا ہوں

اپنا خاکہ لگتا ہوں
ایک تماشا لگتا ہوں
آئینوں کو ہے زنگ لگا
اب میں کیسا لگتا ہوں 
اب میں کوئی شخص نہیں
اس کا سایہ لگتا ہوں
سارے رشتے تشنہ ہیں
کیا میں دریا لگتا ہوں 
اس سے گلے مِل کر خود کو
تنہا تنہا لگتا ہوں
خود کو میں سب آنکھوں میں
دُھندلا دُھندلا لگتا ہوں
میں ہر لمحہ اس گھر سے
جانے والا لگتا ہوں
کیا ہوئے وہ سب لوگ کہ میں
سُونا سُونا لگتا ہوں
مصلحت اس میں کیا ہے مری
ٹُوٹا پُھوٹا لگتا ہوں
کیا تم کو اس حال میں بھی
میں دنیا کا لگتا ہوں
کب کا روگی ہوں، ویسے
شہرِ مسیحا لگتا ہوں
میرا تالُو تر کر دو
سچ مُچ پیاسا لگتا ہوں
مجھ سے کما لو کچھ پیسے
زندہ، مُردہ لگتا ہُوں
میں نے سہے ہیں مَکر اپنے
اب بے چارہ لگتا ہوں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment