Thursday, 6 October 2016

چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں

چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں
پھر یہ بیمار کس کے گھر جائیں
آج کا غم بڑی قیامت ہے
آج سب نقشِ غم ابھر جائیں
ہے بہاروں کی روح سوگ نشیں
سارے اوراقِ گل بکھر جائیں
ناز پروردہ، بے نوا، مجبور
جانے والے یہ سب کدھر جائیں
کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ
کاش اس رات ہم بھی مر جائیں
ہے شبِ ماتمِ مسیحائی
اشک دامن میں تا سحر جائیں
مرنے والے تِرے جنازے میں
کیا فقط ہم بہ چشمِ تر جائیں
کاش دل خون ہو کے بہہ جائے
کاش آنکھیں لہو میں بھر جائیں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment