Friday, 7 October 2016

جینے کے سارے مرحلے مرنے سے اور سخت ہیں

جینے کے سارے مرحلے مرنے سے اور سخت ہیں
ٹکرے ہوئے پڑے بدن تو دل بھی لخت لخت ہیں
چودہ سو سال بعد بھی ہم کربلا میں ہیں کھڑے
وہ ایک تھا یزیدِ وقت، یہ سب یزیدِ وقت ہیں 
خبر نہیں ہے کس لیے لوٹ آتی ہے دعا
ان سے نجات مل سکے کب اپنے ایسے بخت ہیں
ان رہنماؤں کے لیے طوفانِ نوحؑ بھیج دے
اعمال چہروں پر لکھے لہجے بھی کیا کرخت ہیں
صفدرؔ کریہہ مزاج ہیں ارواحِ عمل ہیں یہ
بھوکے ہیں اقتدار کے یہ وارثانِ تخت ہیں

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment