Friday, 7 October 2016

موت بھی تیری موت پہ امجد روتی ہے

امجد صابری کے قتل پر کہی گئی ایک غزل

موت بھی تیری موت پہ امجد روتی ہے
قاتل ہیں بیدار، حکومت سوتی ہے
عاشقِ آلِ محمدﷺ تیری تربت میں
قدرت عشقِ علیؓ کی خوشبو بوتی ہے
فکر یزیدی آج بھی دشمن ذکرِ حسین
نام علیؓ سے اتنی دشمنی ہوتی ہے؟
قاتل کو یہ زعم کہ اس نے مار دیا
امجد صابری صدف سے نکلا موتی ہے
کیسی بدقسمت ہے صفدرؔ یہ امت
اپنے ہاتھ سے اپنا وِرثہ کھوتی ہے

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment