امجد صابری کے قتل پر کہی گئی ایک غزل
موت بھی تیری موت پہ امجد روتی ہے
قاتل ہیں بیدار، حکومت سوتی ہے
عاشقِ آلِ محمدﷺ تیری تربت میں
قدرت عشقِ علیؓ کی خوشبو بوتی ہے
فکر یزیدی آج بھی دشمن ذکرِ حسین
قاتل کو یہ زعم کہ اس نے مار دیا
امجد صابری صدف سے نکلا موتی ہے
کیسی بدقسمت ہے صفدرؔ یہ امت
اپنے ہاتھ سے اپنا وِرثہ کھوتی ہے
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment