زخم کچھ ایسے مِرے قلب و جگر نے پائے
عمر بھر جو کسی عنوان نہ بھرنے پائے
ہم نے اشکوں کے چراغوں سے سجا لی پلکیں
کہ تِرے درد کی بارات گزرنے پائے
ان سے کیا پوچھتے ہو فلسفۂ موت و حیات
پاسِ آدابِ وفا تھا، کہ شکستہ پائی؟
بیخودی میں بھی نہ ہم حد سے گزرنے پائے
اس لیے کم نظری کا بھی ستم سہنا پڑا
تجھ پہ محفل میں کوئی نام نہ دھرنے پائے
رضا ہمدانی
No comments:
Post a Comment