Thursday, 1 December 2016

میری ہمدم مرے خوابوں کی سنہری تعبیر

 اجالا


میری ہمدم، مِرے خوابوں کی سنہری تعبیر 

مسکرا دے کہ مِرے گھر میں اجالا ہو جائے 

آنکھ ملتے ہوئے اٹھ جائے کرن بستر سے 

صبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے 

میرے نکھرے ہوئے گیتوں میں تِرا جادو ہے 

میں نے معیارِ تصور سے بنایا ہے تجھے 

میری پروینِ تخیل،۔ مِری نسرینِ نگاہ 

میں نے تقدیس کے پھولوں سے سجایا ہے تجھے 

دودھ کی طرح کنواری تھی زمستاں کی وہ رات 

جب تِرے شبنمی عارض نے دہکنا سیکھا 

نیند کے سائے میں ہر پھول نے انگڑائی لی 

نرم کلیوں نے تِرے دم سے چٹکنا سیکھا 

میری تخیل کی جھنکار کو ساکت پا کر 

چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیں 

اف مِری تشنہ لبی، تشنہ لبی، تشنہ لبی 

کچی کلیاں تِرے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں 

وقت کے دستِ گراں بار سے مایوس نہ ہو 

کس کو معلوم ہے کیا ہونا ہے اور کیا ہو جائے 

میری ہمدم، مِرے خوابوں کی سنہری تعبیر 

مسکرا دے کہ مِرے گھر میں اجالا ہو جائے 


مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment