Thursday, 1 December 2016

شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے

 شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے

تم جانتے ہو وہم ہے جس بات کا مجھے

جانا کہ بوئے غیر یہ پہچان جائے گا

باسی نہ اس نے ہار دیا رات کا مجھے

مل کر تمام بھید کہوں گا رقیب سے

آتا ہے خوب توڑ تِری گھات کا مجھے

ڈرنا کسی کا اور وہ بجلی کا کوندنا

موسم بہت پسند ہے برسات کا مجھے

آخر وہاں رقیب نے نقشہ جما لیا

اے داغ خوف تھا اسی بد ذات کا مجھے


داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment