Saturday, 3 December 2016

لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو

لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو
ترتیب دے رہا ہوں کتابِ حیات کو
میرا خلوص پاؤں کی زنجیر بن گیا
میرے بدن میں دفن کرو میری ذات کو
ہر آدمی کا نامۂ اعمال ہے سیاہ
کس کے حضور پیش کروں کاغذات کو
وہ شخص میرے حلقۂ احباب میں رہا
لیکن سمجھ سکا نہ مِری نفسیات کو
گر تم مِرے شریکِ سفر ہو تو ساتھ دو
آؤ، گلے لگائیں غمِ کائنات کو

سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment