Saturday, 3 December 2016

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی

یہاں وہاں کہیں آسودگی نہیں ملتی
کلوں کے شہر میں بھی نوکری نہیں ملتی
جو سوت کاتنے میں رات بھر رہی مصروف
اسی کو سر کے لیے اوڑھنی نہیں ملتی
رہِ حیات میں کیا ہو گیا درختوں کو
شجر شجر کوئی ٹہنی ہری نہیں ملتی
غنودگی کا کچھ ایسا طلسم طاری ہے
کوئی بھی آنکھ یہاں جاگتی نہیں ملتی
یہ راز کیا ہے کہ دنیا کو چھوڑ دینے سے
خدا تو ملتا ہے،۔۔۔ پیغمبری نہیں ملتی
گزر رہی ہے حسیں وادیوں سے ریل صباؔ
ستم ہے یہ کوئی کھڑکی کھلی نہیں ملتی

سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment