Saturday, 3 December 2016

ہر ایک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح

ہر ایک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح
رِندوں کی انجمن میں کوئی جائے کس طرح
صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم
صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبرائے کس طرح
جس نے بھی تجھ کو چاہا، دیا اس کو تُو نے غم
دنیا ! تِرے فریب کوئی کھائے کس طرح
زنداں پہ تیرگی کے ہیں پہرے لگے ہوئے
پُرہول خواب گاہ میں نیند آئے کس طرح
زنجیرِ پا کٹی تو جوانی گزر گئی
ہونٹوں پہ تیرا نام صبؔا لائے کس طرح

سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment