Sunday, 4 December 2016

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے
گلوں نے کس لیے بوسے تِری قبا کے لیے
وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا
یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقشِ پا کے لیے
تم اپنی زلف بکھیرو کہ آسماں کو بھی
بہانہ چاہیۓ محشر کے التوا کے لیے
یہ کس نے پیار کی شمعوں کو بددعا دی ہے
اجاڑ راہوں میں جلتی رہیں سدا کے لیے
ابھی تو آگ سے صحرا پڑے ہیں رستے میں
یہ ٹھنڈکیں ہیں فسانے کی ابتدا کے لیے
سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم
کسی حسِین کو آواز دو خدا کے لیے

سعید احمد اختر 

2 comments:

  1. تصحیح

    یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے
    گلوں نے کس لیے بوسے تری قبا کے لیے

    وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا
    یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقش پا کے لیے

    ReplyDelete
  2. تصحیح کر دی گئی ہے، نشاندہی کے لیے شکریہ۔

    ReplyDelete