یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے
گلوں نے کس لیے بوسے تِری قبا کے لیے
وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا
یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقشِ پا کے لیے
تم اپنی زلف بکھیرو کہ آسماں کو بھی
یہ کس نے پیار کی شمعوں کو بددعا دی ہے
اجاڑ راہوں میں جلتی رہیں سدا کے لیے
ابھی تو آگ سے صحرا پڑے ہیں رستے میں
یہ ٹھنڈکیں ہیں فسانے کی ابتدا کے لیے
سلگ رہا ہے چمن میں بہار کا موسم
کسی حسِین کو آواز دو خدا کے لیے
سعید احمد اختر
تصحیح
ReplyDeleteیہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے
گلوں نے کس لیے بوسے تری قبا کے لیے
وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا
یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقش پا کے لیے
تصحیح کر دی گئی ہے، نشاندہی کے لیے شکریہ۔
ReplyDelete