کھول آغوش نہ تُو مجھ سے رکاوٹ سے لپٹ
اب جو لپٹا ہے تو آ پیار کی کروٹ سے لپٹ
اس نے سر اپنا دھنا دیکھ شگافِ در سے
کر کے غش رہ گئے جو ہم اسکی چوکھٹ سے لپٹ
دھوم یہ بادہ کشوں کی ہے مۓ خانہ میں
جوں گلی میں مجھے آتے ہوئے دیکھا تو وہ شوخ
اپنی چوکھٹ سے اوچگ جھٹ سے گیا پٹ سے لپٹ
شیخ سے عید کو کیوں آپ ہم آغوش ہوئے
کوئی جاتا ہے بھلا ایسے بھی کھوسٹ سے لپٹ
پیس ڈال آج تو میرے بھی پھپھولے دل کے
آ نہ آ مجھ سے ٹک ایسے ہی سجاوٹ سے لپٹ
چوٹ کھا کر لگی کہنے کہ اگر ایسا ہے
ہے گِلہ کھیلنا تجھ کو تو کسی نٹ سے لپٹ
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment