Sunday, 8 January 2017

کھول آغوش نہ تو مجھ سے رکاوٹ سے لپٹ

کھول آغوش نہ تُو مجھ سے رکاوٹ سے لپٹ
اب جو لپٹا ہے تو آ پیار کی کروٹ سے لپٹ
اس نے سر اپنا دھنا دیکھ شگافِ در سے
کر کے غش رہ گئے جو ہم اسکی چوکھٹ سے لپٹ
دھوم یہ بادہ کشوں کی ہے مۓ خانہ میں
مست جاتے ہیں صراحی کی غٹا غٹ سے لپٹ
جوں گلی میں مجھے آتے ہوئے دیکھا تو وہ شوخ
اپنی چوکھٹ سے اوچگ جھٹ سے گیا پٹ سے لپٹ
شیخ سے عید کو کیوں آپ ہم آغوش ہوئے
کوئی جاتا ہے بھلا ایسے بھی کھوسٹ سے لپٹ
پیس ڈال آج تو میرے بھی پھپھولے دل کے
آ نہ آ مجھ سے ٹک ایسے ہی سجاوٹ سے لپٹ
چوٹ کھا کر لگی کہنے کہ اگر ایسا ہے
ہے گِلہ کھیلنا تجھ کو تو کسی نٹ سے لپٹ

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment