Sunday, 8 January 2017

تپش دل ہی سے ہم مل کے گلے بیٹھے ہیں

تپشِ دل ہی سے ہم مل کے گلے بیٹھے ہیں
چھیڑ مت شعلۂ گل بس کہ جلے بیٹھے ہیں
آہ کی دھونی لگا در پہ مِرے خاک نشیں
راکھ جوگی کی طرح منہ کو مَلے بیٹھے ہیں
سردی و گرمی و برسات جو ہو یا قسمت
تیری دیوار کے ہم سائے تلے بیٹھے ہیں
آپ جو چاہیے فرمائیے ہم تو چپکے
کیا کریں خیر جو کچھ بس نہ چلے، بیٹھے ہیں
سیرِ گلشن کی نہ تکلیف ہمیں دے انشاؔ
کنجِ عزلت ہی میں ہم اپنے بھلے بیٹھے ہیں

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment