تپشِ دل ہی سے ہم مل کے گلے بیٹھے ہیں
چھیڑ مت شعلۂ گل بس کہ جلے بیٹھے ہیں
آہ کی دھونی لگا در پہ مِرے خاک نشیں
راکھ جوگی کی طرح منہ کو مَلے بیٹھے ہیں
سردی و گرمی و برسات جو ہو یا قسمت
آپ جو چاہیے فرمائیے ہم تو چپکے
کیا کریں خیر جو کچھ بس نہ چلے، بیٹھے ہیں
سیرِ گلشن کی نہ تکلیف ہمیں دے انشاؔ
کنجِ عزلت ہی میں ہم اپنے بھلے بیٹھے ہیں
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment