جس دم کہ تِرے محوِ تجلی کو غش آیا
لوگوں نے کہا کہ حضرتِ موسیٰ کو غش آیا
عکسِ رخِ ساقی سے ہوا جام جو روشن
خورشید یہ کانپا کہ مسیحا کو غش آیا
دیکھا جو ہم آغوش ہمیں اور تمہیں کل
کوچے میں تِرے آج جو ہے بھیڑ بہت سی
شاید کہ کسی عاشقِ رسوا کو غش آیا
نظارہ کی تاب اپنے نہ لایا نہ یہ دیکھو
دیکھ آئینہ اس شوخ خود آرا کو غش آیا
جب وادئ مجنوں سے چلا قافلہ آگے
بے ساختہ وہاں ناقۂ لیلیٰ کو غش آیا
جس وقت وہ یوسف سے ہم آغوش تھے اس وقت
سنتے ہی تِرا نام زلیخا کو غش آیا
بالیں پہ سمٹ کر کے جو لوگ آئے ہیں اسکے
شاید تِرے بیمارِ تمنا کو غش آیا
گِرنے نا دیا اس کو ملائک نے زمیں پر
جس دم تِرے دردِ کشِ صہبا کو غش آیا
بے خود ہو گِرا بزم میں انشاؔ تو وہ بولا
آغا کو غش آیا، مِرے مرزا کو غش آیا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment