امیدِ رنگ و بُو رکھی ہوئی ہے
تمنائے سبو رکھی ہوئی ہے
ہمارے دل کے اک گوشے میں اب بھی
تمہاری آرزو رکھی ہوئی ہے
شکستہ پا سہی لیکن نظر میں
سفر رکتا نہیں بالیدگی کا
کہ فطرت میں نمو رکھی ہوئی ہے
عیاں ہے ہم پہ دنیا کی حقیقت
ہمارے رو برو رکھی ہوئی ہے
زباں کو بے طلب رکھا ہوا ہے
انا کی آبرو رکھی ہوئی ہے
دِیا گھر میں جلا رکھا ہے عاجزؔ
ہوا سے گفتگو رکھی ہوئی ہے
مشتاق عاجز
No comments:
Post a Comment