Monday, 9 January 2017

مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے

مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے
مگر اک فاصلہ رکھا ہوا ہے
سفر طے کر چکا حرفِ تمنا
زباں پر آبلہ رکھا ہوا ہے
جنوں کو پھر وہیں جانے کی ضد ہے 
جہاں اک حادثہ رکھا ہوا ہے
فضائے بے یقینی میں بھی عاجزؔ
دعا کا حوصلہ رکھا ہوا ہے

مشتاق عاجز

No comments:

Post a Comment