نیند بیچی جا رہی ہے کاروبار خواب ہے
پھر بھی آشفتہ سروں کو اعتبارِ خواب ہے
ان دنوں آنکھوں کی تقدیریں ہیں کس کے ہاتھ میں
کون آخر ان دنوں پروردگارِ خواب ہے
نقشِ پا ہے زندگی کا اور اس پر آبلے
ایک منظر بھی نہیں ہے میرے چھونے کیلئے
یہ جہاں کوئی خلائے شرمسارِ خواب ہے
سارے کرداروں کے چہرے زرد لہجے سرد ہیں
یہ کہانی کیا پڑھو گے داغ دارِ خواب ہے
آسماں کو دیکھتا ہوں چار جانب دیکھ کر
اور کتنے دن فضائے انتشارِ خواب ہے
رفتگاں میں اور ہم میں مشترک ہے ایک بات
انتظارِ خواب تھا اور انتظارِ خواب ہے
دانيال طرير
No comments:
Post a Comment