Tuesday, 10 January 2017

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تُو تکرار سمندر
جیسے گزرے خاموشی سے وقت گزار سمندر
ایسے دیکھا کرتا تھا میں اس کی جھیل سی آنکھیں
جیسے کوئی دیکھ رہا ہو پہلی بار سمندر
آج نہ جانے دوں گا تجھ کو اپنی آنکھ سے باہر
دھاڑیں مار سمندر چاہے، ٹھاٹھیں مار سمندر
صحرا پار کیا ہے میں نے کر کچھ سر کا صدقہ
مجھ پر وار سمندر،۔ کوئی ٹھنڈا ٹھار سمندر
جنم جنم کی پیاس بھری ہے میری اس مٹی میں
میرے ذرے ذرے کو ہے اب درکار سمندر
جتنی آسانی سے میں نے تجھ کو پار کیا ہے
کیا تُو کر سکتا ہے ایسے مجھ کو پار سمندر
اک بحرِ مردار کی صورت اور اک بحر الکاہل
میرے ساتھ کہاں تک چلتے یہ بیمار سمندر
میں سیراب کروں صحراؤ! میری آنکھ میں آؤ
پیاس تمہاری ہے ہی کتنی بس دو چار سمندر

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment